Popular Posts

سانحۂ پمز: آخر ہم ہر سانحے کے بعد صرف اگلے سانحے کا انتظار کیوں کرتے ہیں؟

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں جو کچھ ہوا، اسے محض ایک آگ لگنے کا واقعہ کہنا شاید اس سانحے کی شدت کو کم کرنا ہوگا۔ یہ صرف ایک عمارت میں بھڑکنے والی آگ نہیں تھی۔ یہ 14 ننھی سانسوں کے بجھ جانے کا سانحہ تھا۔ وہ بچے جنہوں نے ابھی دنیا کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا، جن کی ماؤں نے شاید ابھی ان کے لیے خواب دیکھنا شروع کیے تھے، وہ چند لمحوں میں اس دنیا سے چلے گئے۔

ایک ماں کے لیے اس سے بڑا کرب کیا ہوگا کہ وہ اپنے بچے کو زندگی بچانے والے اسپتال میں چھوڑے اور پھر اسے واپس لینے کے لیے جنازہ ملے

یہ سوال صرف پمز سے نہیں، پورے نظام سے ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ مادر و طفل صحت وارڈ کے نرسری/NICU حصے میں لگی، جہاں نومولود بچے موجود تھے۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق آگ کے پھیلاؤ میں آکسیجن کی موجودگی نے شدت پیدا کی، جبکہ واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا، جبکہ ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔

مگر قوم کا سوال یہ ہے:

کیا ہم صرف ایک اور انکوائری رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں؟

یا واقعی اس بار کسی ذمہ دار کا احتساب ہوگا؟


شہباز شریف کا غم، لیکن قوم کا سوال اس سے آگے ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے اس سانحے کو انتہائی دل خراش اور ناقابلِ تلافی قرار دیا۔ انہوں نے فوری تحقیقات کا حکم دیا اور ذمہ داروں کے تعین اور سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ وفاقی سیکریٹری صحت کے خلاف بھی فوری کارروائی کی گئی اور اعلیٰ سطحی انکوائری شروع کی گئی۔

یہ اقدامات یقیناً ضروری ہیں۔

لیکن یہاں اصل سوال شروع ہوتا ہے، ختم نہیں ہوتا۔

آخر ہر بڑے سانحے کے بعد ہمارا نظام ایک ہی طریقے سے کیوں جاگتا ہے؟

سانحہ ہوتا ہے۔

ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز چلتی ہے۔

وزیراعظم نوٹس لیتے ہیں۔

وزیر موقع پر پہنچتے ہیں۔

ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے۔

ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان ہوتا ہے۔

چند دن قوم غمگین رہتی ہے۔

اور پھر…

ہم اگلے سانحے کا انتظار شروع کر دیتے ہیں۔

کیا ہمارا نظام صرف مرنے والوں کی تعداد بڑھنے کے بعد حرکت میں آتا ہے؟

کیا حفاظتی انتظامات صرف اس وقت یاد آتے ہیں جب کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے؟

کیا ایک اسپتال کو محفوظ بنانے کے لیے پہلے 14 نومولود بچوں کی جانیں جانا ضروری تھیں؟

یہ سوالات تلخ ہیں۔

مگر ان کا جواب اس سے بھی زیادہ تلخ ہے۔


مصطفیٰ کمال نے ذمہ داری قبول کرنے کی بات کی — لیکن ذمہ داری صرف الفاظ سے پوری نہیں ہوگی

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اس سانحے کے بعد کہا کہ اگر تحقیقات میں ان کی کوتاہی ثابت ہوئی تو وہ خود کو بھی احتساب کے لیے پیش کرنے کو تیار ہیں اور کسی ذمہ دار کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے تحقیقات کو شفاف بنانے اور اس کے نتائج پر عمل درآمد کا بھی وعدہ کیا۔

یہ بات سیاسی طور پر اہم ہے۔

کیونکہ ہمارے ملک میں اکثر بڑے سانحات کے بعد ذمہ داری نیچے کی سطح پر دھکیل دی جاتی ہے۔

کبھی ایک چوکیدار ذمہ دار ہوتا ہے۔

کبھی ایک جونیئر افسر۔

کبھی ایک انجینئر۔

کبھی ایک سیکریٹری کو ہٹا دیا جاتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ:

نظام کی ناکامی کی ذمہ داری آخر کس کی ہوتی ہے؟

اگر کسی اسپتال میں برسوں سے فائر سیفٹی کے انتظامات کمزور ہوں، ایمرجنسی راستوں پر سوالات اٹھتے ہوں، حساس وارڈ میں آگ بجھانے کا مؤثر نظام موجود نہ ہو، اور ایک حادثہ سیکنڈوں میں انسانی المیے میں بدل جائے، تو کیا صرف ایک افسر کو ہٹا دینا کافی ہے؟

نہیں۔

یہاں انفرادی غفلت کے ساتھ ادارہ جاتی ناکامی کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقی احتساب شروع ہونا چاہیے۔


اصل مسئلہ آگ نہیں، ہمارا ردِعمل ہے

آگ لگ سکتی ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی حادثات ہوتے ہیں۔

مشین خراب ہو سکتی ہے۔

بجلی کا نظام ناکام ہو سکتا ہے۔

تکنیکی خرابی ہو سکتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ:

حادثہ ہونے کے بعد نظام کیا کرتا ہے؟

ایک محفوظ نظام حادثے کو سانحہ بننے سے روکتا ہے۔

اس کے پاس:

واضح ایمرجنسی پلان ہوتا ہے۔
عملے کی تربیت ہوتی ہے۔
فائر الارم فعال ہوتے ہیں۔
ایمرجنسی راستے قابلِ استعمال ہوتے ہیں۔
حساس وارڈز کے لیے الگ حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، غفلت کو معمول نہیں سمجھا جاتا۔

یہاں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی ہے:

ہم خطرے کو اس وقت تک خطرہ نہیں سمجھتے جب تک کوئی مر نہ جائے۔

خراب تاریں برسوں خراب رہتی ہیں۔

غیر فعال مشینیں برسوں بند پڑی رہتی ہیں۔

ایمرجنسی راستے کاغذوں میں موجود ہوتے ہیں۔

سیفٹی سرٹیفکیٹ فائلوں میں پڑے رہتے ہیں۔

اور پھر ایک دن…

ایک چنگاری لگتی ہے۔

اور پوری قوم پوچھتی ہے:

یہ کیسے ہو گیا؟

مگر شاید اصل سوال ہونا چاہیے:

یہ ہونے سے پہلے روکا کیوں نہیں گیا؟


ہم ایک سانحے کے بعد اگلے سانحے کا انتظار کیوں کرتے ہیں؟

یہ سب سے بڑا سوال ہے۔

اور شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ بھی۔

ہماری اجتماعی عادت بن گئی ہے کہ ہم احتیاط سے زیادہ افسوس پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

ہم روک تھام پر کم خرچ کرتے ہیں۔

تحقیقات پر زیادہ بحث کرتے ہیں۔

ہم نظام ٹھیک کرنے سے پہلے بیان جاری کرتے ہیں۔

ہم خطرات کا جائزہ لینے کے بجائے لاشوں کے بعد اجلاس کرتے ہیں۔

ہم زندہ لوگوں کو بچانے کے لیے اتنی جلدی نہیں پہنچتے، جتنی جلدی مرنے والوں کے بعد مذمتی بیانات آتے ہیں۔

یہ جملہ سخت ہے۔

لیکن شاید حقیقت اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔

آج پمز کا سانحہ ہمارے سامنے ہے۔

کل کوئی فیکٹری ہوگی۔

پرسوں کوئی اسکول۔

اس کے بعد شاید کوئی سڑک، کوئی پل، کوئی عمارت یا کوئی اور اسپتال۔

اور ہر مرتبہ ہم کہیں گے:

“بہت افسوسناک واقعہ ہے۔ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔”

لیکن سوال یہ ہے کہ:

کیا کبھی ایسا دن آئے گا جب ہم سانحے کے بعد نہیں، سانحے سے پہلے جاگیں گے؟


حکومت کی سب سے بڑی غلطی کہاں ہے؟

حکومت کی سب سے بڑی غلطی صرف ایک فرد کی غلطی نہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ ری ایکٹو گورننس ہے۔

یعنی:

پہلے حادثہ ہو۔

پھر حکومت حرکت کرے۔

پہلے لوگ مریں۔

پھر کمیٹی بنے۔

پہلے خاندان اجڑیں۔

پھر حفاظتی نظام کا جائزہ لیا جائے۔

یہ طرزِ حکمرانی نہیں، سانحات کے بعد نقصان کم کرنے کی کوشش ہے۔

اصل حکومت وہ ہوتی ہے جو پوچھے:

کہاں حادثہ ہو سکتا ہے؟

نہ کہ صرف یہ پوچھے:

حادثہ کیوں ہوا؟

پمز کے سانحے کے بعد صرف پمز کی تحقیقات کافی نہیں ہونی چاہئیں۔

اب سوال پورے ملک کے ہر بڑے سرکاری اسپتال کا ہے۔

کتنے اسپتالوں میں فعال فائر سیفٹی سسٹم موجود ہے؟

کتنے حساس وارڈز کا باقاعدہ سیفٹی آڈٹ ہوتا ہے؟

کتنے ڈاکٹروں اور نرسوں کو ایمرجنسی ایویکیویشن کی عملی تربیت دی گئی ہے؟

کتنے اسپتالوں میں بچوں اور انتہائی نگہداشت والے وارڈز کے لیے الگ ریسکیو پلان موجود ہے؟

اور سب سے اہم:

کیا یہ سوالات پہلے کبھی سنجیدگی سے پوچھے گئے تھے؟

وزیراعظم کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کو آگ کی فوری وجہ کے ساتھ ایمرجنسی ردعمل، حفاظتی انتظامات اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لینے کا بھی مینڈیٹ دیا گیا ہے، جبکہ عبوری رپورٹ 48 گھنٹوں اور تفصیلی رپورٹ پانچ دن میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مگر قوم کو صرف رپورٹ نہیں چاہیے۔

قوم کو تبدیلی چاہیے۔


صرف معطلی نہیں، پورے نظام کا علاج چاہیے

اگر اس سانحے کے بعد صرف ایک سیکریٹری معطل ہوا، چند افسر تبدیل ہوئے اور چند مہینوں بعد سب کچھ معمول پر آ گیا، تو یہ اصلاح نہیں ہوگی۔

Damage Control یہ صرف سیاسی

حقیقی انصاف یہ ہوگا کہ:

ہر بڑے سرکاری اسپتال کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے۔

ہر NICU اور بچوں کے وارڈ کے لیے خصوصی ایمرجنسی پلان بنایا جائے

سیفٹی آلات صرف لگائے نہ جائیں بلکہ باقاعدگی سے چیک بھی کیے جائیں۔

ہسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری واضح ہو۔

اور جس ادارے میں کوتاہی ثابت ہو، وہاں کارروائی صرف کاغذوں تک محدود نہ رہے۔

سب سے بڑھ کر:

ہر سانحے کی رپورٹ عوام کے سامنے آنی چاہیے۔

کیونکہ جب رپورٹیں بند فائلوں میں چلی جاتی ہیں تو اگلا سانحہ کھلی حقیقت بن کر سامنے آتا ہے۔


14 بچے نہیں گئے، 14 سوال چھوڑ گئے ہیں

آج سب سے زیادہ تکلیف دہ بات شاید یہ ہے کہ یہ بچے اپنی آواز میں سوال بھی نہیں کر سکتے۔

وہ احتجاج نہیں کر سکتے۔

وہ عدالت نہیں جا سکتے۔

وہ ٹی وی پر آ کر نہیں پوچھ سکتے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔

ان کے حصے کا سوال اب ہمیں پوچھنا ہے۔

ان 14 ننھی جانوں نے ہم سے پوچھا ہے:

کیا ہماری جان اتنی سستی تھی؟

انہوں نے پوچھا ہے:

کیا اسپتال واقعی محفوظ تھا؟

انہوں نے پوچھا ہے:

کیا ہماری موت کے بعد بھی صرف ایک کمیٹی بنے گی؟

اور شاید سب سے بڑا سوال:

کیا ہم واقعی اگلا سانحہ ہونے سے پہلے کچھ بدلیں گے؟

یہ صرف حکومت کا امتحان نہیں۔

یہ پورے معاشرے کا امتحان ہے۔

کیونکہ اگر ہم چند دن غم منانے کے بعد دوبارہ خاموش ہو گئے، اگر ہم نے صرف سوشل میڈیا پر افسوس لکھ کر آگے بڑھ جانا ہے، اگر ہم نے رپورٹ آنے کے بعد اسے بھلا دینا ہے، تو پھر ہمیں اگلے سانحے پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔


اب فیصلہ حکومت کو کرنا ہے: ایک اور انکوائری یا ایک نئی مثال؟

شہباز شریف نے تحقیقات اور سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے خود کو بھی احتساب کے لیے پیش کرنے کی بات کی ہے۔

اب اصل امتحان الفاظ کے بعد کا مرحلہ ہے۔

کیونکہ قوم نے بیانات بہت سن لیے ہیں۔

قوم نے کمیٹیاں بھی بہت دیکھ لی ہیں۔

قوم نے معطلیاں بھی دیکھی ہیں۔

اب قوم دیکھنا چاہتی ہے کہ:

کیا اس بار واقعی کوئی نظام بدلے گا؟

یا چند دن بعد سب کچھ خاموش ہو جائے گا؟

اور پھر ہم کسی نئے اسپتال، کسی نئے اسکول، کسی نئی عمارت یا کسی نئی سڑک کے سانحے کے بعد دوبارہ ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھ کر یہی سوال پوچھیں گے:

“یہ کیسے ہو گیا؟”

شاید ہمیں اب یہ سوال بدلنا ہوگا۔

“یہ دوبارہ کیوں ہونے دیا گیا؟”

کیونکہ پمز کا سانحہ صرف 14 بچوں کی موت نہیں۔

یہ ہمارے نظام کے لیے ایک آئینہ ہے۔

اور آئینے میں نظر آنے والی حقیقت شاید ہمیں پسند نہ آئے۔

لیکن اگر ہم نے اس حقیقت سے نظریں چُرا لیں…

تو پھر یاد رکھیے:

ہم سانحات ختم نہیں کر رہے۔

ہم صرف ایک سانحے سے دوسرے سانحے تک کا انتظار مختصر کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *