Popular Posts

صوبے بنانے کی بحث اور کراچی کا سوال: مسئلہ سندھ کی سرحد ہے حکمرانی کا؟

پاکستان میں جب بھی نئے صوبوں کی بات اٹھتی ہے تو بحث صرف نقشے پر بنی ہوئی ایک لکیر کی نہیں رہتی۔ اس کے ساتھ شناخت، وسائل، اقتدار، نمائندگی، ترقی اور محرومی جیسے کئی سوال جڑ جاتے ہیں۔ پنجاب میں نئے صوبے کے حوالے سے قرارداد کی بات سامنے آتی ہے تو اسے انتظامی ضرورت، عوامی سہولت اور پسماندہ علاقوں کو زیادہ اختیار دینے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف سندھ میں یہی بحث شروع ہوتے ہی جذبات بہت تیزی سے سامنے آتے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں حالیہ دنوں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث شروع ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح طور پر سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی پہلے بھی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے یا صوبے کو تقسیم کرنے کی تجاویز مسترد کر چکی ہے۔ فروری 2026 کی قرارداد میں اسمبلی نے کراچی کو سندھ کا ’’ناقابلِ تنسیخ حصہ‘‘ قرار دیا تھا۔

اسی ماحول میں ’’مرسون مرسون، سندھ نہ ڈیسوں‘‘ جیسا نعرہ دوبارہ سیاسی گفتگو کا حصہ بن رہا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا ایک عام کراچی کے شہری کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سندھ ایک صوبہ ہے، یا یہ ہے کہ اسے پانی، ٹرانسپورٹ، صاف سڑک، نکاسی آب، کچرا اٹھانے اور محفوظ شہری ماحول جیسی بنیادی سہولتیں کیوں مسلسل مشکلات کے ساتھ ملتی ہیں؟

یہ سوال کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں۔ بلکہ شاید آج سندھ کی سب سے ضروری سیاسی بحث یہی سوال ہے۔

کراچی: سندھ کا سب سے بڑا شہری امتحان

کراچی صرف سندھ کا دارالحکومت نہیں بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا شہری مرکز اور معاشی انجن ہے۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق سندھ کی تقریباً 53.97 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے، جبکہ کراچی ڈویژن میں شہری آبادی کا تناسب تقریباً 92.57 فیصد ہے۔

یعنی سندھ کی سیاست اگر مستقبل کی طرف دیکھنا چاہتی ہے تو اسے کراچی کے شہری مسئلے کو محض ایک شہر کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی کا انفراسٹرکچر، اس کی معیشت، اس کی ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج اور شہری منصوبہ بندی براہِ راست پورے صوبے کی معاشی کارکردگی سے جڑی ہوئی ہے۔

اس حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

لیکن کراچی میں رہنے والا عام شہری اکثر ایک عجیب صورتحال دیکھتا ہے۔

ایک سڑک بنائی جاتی ہے، کچھ عرصے بعد کسی دوسری سروس کے لیے اسے کھود دیا جاتا ہے۔ بارش آتی ہے تو کئی علاقوں میں پانی سڑکوں پر جمع ہو جاتا ہے۔ سیوریج لائنیں بوسیدہ ہوتی ہیں۔ کچرے کے ڈھیر شہری زندگی کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔ ٹریفک کا دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت اور شہر کی آبادی کے درمیان فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔

اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عام شہری کو اکثر یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ اس مسئلے کا ذمہ دار کون ہے؟

یہی کراچی کے اصل بحرانوں میں سے ایک ہے۔

پانی: نعرے سے زیادہ تلخ حقیقت

کراچی کے پانی کا مسئلہ اس بحث کی بہترین مثال ہے۔

سندھ اسمبلی میں سرکاری جواب کے مطابق کراچی کو تقریباً 630 ملین گیلن یومیہ پانی ملتا ہے جبکہ مجموعی طلب تقریباً 1,200 ملین گیلن یومیہ بتائی گئی ہے۔ اسی کمی کے باعث کئی علاقوں میں پانی شیڈول کے مطابق آتا ہے، جبکہ بعض آخری سرے کے علاقوں میں وقفہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

یہ صرف ایک عدد نہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ایک ماں کو پانی ذخیرہ کرنے کی فکر ہے۔ ایک کرایہ دار کو ٹینکر کے خرچ کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ ایک چھوٹے کاروبار کو پانی نہ آنے سے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ایک عام گھر کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ اگلی بار نل میں پانی کب آئے گا۔

تو پھر سوال یہ ہے:

اگر کراچی کے پانی کا بحران موجودہ انتظامی ڈھانچے میں حل نہیں ہو رہا تو کیا صرف صوبائی سرحد بدلنے سے پانی کی لائن خود بخود بہتر ہو جائے گی؟

یقیناً نہیں۔

نیا صوبہ ہو یا موجودہ صوبہ، پانی کے لیے ذریعہ، انفراسٹرکچر، تقسیم، لیکیج کنٹرول، چوری کے خلاف کارروائی، سرمایہ کاری اور جواب دہ ادارہ ضروری ہے۔

اصل مسئلہ شاید ’’کون حکومت کرتا ہے‘‘ سے زیادہ ’’کون جواب دہ ہے‘‘ ہے

کراچی کی پیچیدگی کا ایک بڑا سبب اس کا بٹا ہوا شہری انتظام ہے۔

ایک سرکاری شہری حکمتِ عملی کی دستاویز کے مطابق کراچی میں شہری منصوبہ بندی اور سروس ڈلیوری سے متعلق کئی ادارے کام کرتے ہیں، جن میں KMC، ضلعی ادارے، صوبائی محکمے اور مختلف مخصوص اتھارٹیز شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق اختیارات کی یہ تقسیم شہری حکومت کی مؤثر منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی کو مشکل بناتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ’’نئے صوبے‘‘ کی بحث کو ذرا گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

فرض کریں کل ایک نیا صوبہ بنا دیا جاتا ہے۔

لیکن اگر اس نئے صوبے کے اندر بھی پانی ایک ادارے کے پاس، کچرا دوسرے کے پاس، تعمیرات تیسرے کے پاس، سڑک چوتھے کے پاس، ٹرانسپورٹ پانچویں کے پاس اور زمین کا اختیار کسی اور کے پاس رہے تو عام آدمی کے لیے کیا بدلے گا؟

صرف نقشہ بدلنے سے حکمرانی نہیں بدلتی۔

ترقیاتی بجٹ بھی ہے، پھر سوال باقی کیوں ہے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ حکومت کراچی کے لیے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کا اعلان کرتی رہی ہے۔ 2026-27 کے بجٹ میں کراچی کے لیے 100 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا سرکاری مؤقف سامنے آیا، جس میں پانی، نکاسی آب، سڑکوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو شامل کیا گیا۔

اسی طرح بجٹ دستاویزات میں کراچی کے پانی، سیوریج، BRT منصوبوں، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کے لیے مختلف رقوم مختص ہونے کی اطلاع دی گئی۔

یہ اعداد حکومت کے مؤقف کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔

لیکن شہری کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ کتنے ارب روپے مختص ہوئے؟

وہ یہ جاننا چاہتا ہے:

میرے علاقے میں کیا بنا؟ کب بنا؟ کتنے پیسوں میں بنا؟ کتنے سال چلے گا؟ اور خراب ہونے پر ذمہ دار کون ہوگا؟

یہی وہ فرق ہے جو ترقیاتی اعلان اور حقیقی ترقی کے درمیان ہوتا ہے۔

’’مرسون مرسون‘‘ جذبات کی ترجمانی کر سکتا ہے، لیکن شہری سوال بھی ضروری ہیں

سندھ کی شناخت، تاریخ، ثقافت اور وحدت یقیناً حساس موضوعات ہیں۔ سندھ حکومت اور اسمبلی کا یہ مؤقف بھی واضح ہے کہ صوبے کی تقسیم کو وہ تاریخی اور سیاسی طور پر قبول نہیں کرتے۔

لیکن ایک عام شہری کے ذہن میں ایک اور سوال بھی ہو سکتا ہے:

اگر سندھ نہیں دینا، تو سندھ کے شہریوں کو کیا دینا ہے؟

انہیں ایسا کراچی دینا ہوگا جہاں سڑک صرف افتتاح کے لیے نہ بنے بلکہ برسوں قائم رہے۔

ایسا کراچی جہاں بارش کے بعد شہری اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کے ساتھ یہ نہ سوچے کہ آگے سڑک ہے یا پانی کا تالاب۔

ایسا کراچی جہاں پانی ٹینکر کے ذریعے حاصل کرنا مجبوری نہ ہو۔

ایسا کراچی جہاں کچرے کا مسئلہ سیاسی بیان نہیں بلکہ باقاعدہ شہری سروس ہو۔

ایسا کراچی جہاں پبلک ٹرانسپورٹ صرف منصوبوں کے ناموں میں نہ ہو بلکہ روزانہ لاکھوں لوگوں کے سفر کو واقعی آسان کرے۔

اور سب سے بڑھ کر ایسا کراچی جہاں شہری کو یہ معلوم ہو کہ شکایت کس ادارے سے کرنی ہے اور اگر مسئلہ حل نہ ہو تو جواب دہ کون ہے۔

کیا نئے صوبے واقعی حل ہو سکتے ہیں؟

نئے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ بڑے انتظامی یونٹس میں دور دراز علاقوں تک حکومت کی رسائی کمزور ہو سکتی ہے۔ چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹس بعض حالات میں وسائل اور انتظامیہ کو عوام کے قریب لا سکتے ہیں۔

یہ دلیل مکمل طور پر رد نہیں کی جا سکتی۔

لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی ہے۔

دنیا میں بہت سے بڑے شہر ایک ہی صوبے یا ریاست کا حصہ ہوتے ہوئے مؤثر شہری حکومت کے ذریعے چلتے ہیں۔ اصل مسئلہ صرف رقبہ نہیں بلکہ اداروں کی صلاحیت، اختیارات کی واضح تقسیم، مالی خودمختاری، منصوبہ بندی اور جواب دہی ہے۔

پاکستان کے آئین میں بھی صوبے کی حدود تبدیل کرنا ایک انتہائی سنجیدہ آئینی عمل ہے؛ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کے بغیر صوبائی حدود میں تبدیلی کا بل صدر کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکتا۔

اس لیے نئے صوبے کی بحث کو صرف جلسے کے نعرے یا جذباتی ردعمل تک محدود کرنا دانشمندانہ نہیں ہوگا۔

میرے خیال میں اصل حل کہاں ہے؟

اگر واقعی مقصد عوام کی مشکلات کم کرنا ہے تو سندھ میں سب سے پہلے ایک بااختیار، مالی طور پر مضبوط اور جواب دہ مقامی حکومت کا ماڈل زیرِ بحث آنا چاہیے۔

کراچی کے لیے طویل المدت شہری منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔

پانی کے لیے واضح ذمہ داری اور شفاف نظام ہونا چاہیے۔

سڑک، سیوریج، کچرے اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کی آن لائن نگرانی ہونی چاہیے۔

ہر بڑے ترقیاتی منصوبے کے ساتھ اس کی لاگت، مدت، ٹھیکیدار، تکمیل کی تاریخ اور معیار کی معلومات عوام کے سامنے ہونی چاہئیں۔

اور سب سے اہم بات، مختلف اداروں کے درمیان یہ بحث ختم ہونی چاہیے کہ یہ کام میرا نہیں، دوسرے ادارے کا ہے۔

کیونکہ شہری کے لیے ادارے کا نام اہم نہیں ہوتا۔

اس کے لیے صرف یہ اہم ہوتا ہے کہ مسئلہ حل ہوا یا نہیں۔

سندھ کو تقسیم کرنے سے پہلے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے

اگر کوئی کہتا ہے کہ نئے صوبے بننے چاہئیں تو اس سے پوچھا جائے:

نیا صوبہ بنانے کے بعد پانی کا نظام کیسے بہتر ہوگا؟

اگر کوئی کہتا ہے کہ سندھ کی تقسیم کا سوال ہی نہیں تو اس سے بھی پوچھا جائے:

موجودہ نظام میں کراچی اور سندھ کے شہری مسائل کب اور کیسے حل ہوں گے؟

دونوں سوال جائز ہیں۔

یہی جمہوریت ہے۔

سندھ کی وحدت کے حق میں جذبات اپنی جگہ، لیکن شہریوں کے مسائل بھی اپنی جگہ حقیقت ہیں۔ اسی طرح نئے صوبے کا مطالبہ اپنی جگہ ایک سیاسی و انتظامی مؤقف ہو سکتا ہے، لیکن اسے بھی صرف جذبات نہیں بلکہ واضح معاشی، انتظامی اور آئینی منصوبے کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔

صوبہ بعد میں، شہری پہلے

میرے نزدیک اس پوری بحث کا سب سے اہم کردار عام انسان ہے۔

وہ شخص جو صبح بس یا موٹر سائیکل پر کام کے لیے نکلتا ہے۔

وہ خاتون جو پانی آنے کا انتظار کرتی ہے۔

وہ طالب علم جو ٹریفک میں گھنٹوں پھنس جاتا ہے۔

وہ دکاندار جو بارش کے بعد اپنی دکان کے سامنے جمع پانی دیکھتا ہے۔

وہ خاندان جو ہر سال ٹوٹتی سڑک، بند سیوریج اور مہنگے ٹینکر کا سامنا کرتا ہے۔

اس شخص سے اگر پوچھا جائے کہ اسے نیا صوبہ چاہیے یا موجودہ سندھ میں بہتر حکومت، تو ممکن ہے اس کا جواب سیاسی نعروں سے مختلف ہو۔

وہ شاید کہے:

’’مجھے پہلے اپنا مسئلہ حل چاہیے۔‘‘

اور شاید یہی اس پوری بحث کا سب سے سادہ مگر سب سے طاقتور نکتہ ہے۔

سندھ کی شناخت بھی محفوظ رہ سکتی ہے، کراچی کی ترقی بھی ہو سکتی ہے، اور نئے انتظامی یونٹس پر جمہوری بحث بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اصل کامیابی اس دن ہوگی جب عام شہری کو یہ محسوس ہوگا کہ حکومت اس کے اوپر نہیں، اس کے لیے کام کر رہی ہے۔

کیونکہ آخرکار صوبے نقشے پر بنتے ہیں، مگر ریاست کی اصل ساکھ شہری کی روزمرہ زندگی میں بنتی ہے۔

اور کراچی جیسے شہر میں یہ ساکھ کسی نعرے سے نہیں بلکہ صاف پانی، چلتی بس، کھلی سڑک، درست سیوریج، بہتر انفراسٹرکچر اور جواب دہ حکومت سے بنے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *