Popular Posts

پمز سانحہ : 14 ننھی جانیں چلی گئیں، مگر اب سوال یہ ہے—کیا واقعی کسی کا احتساب ہوگا یا ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر معاملہ رفا دفا کر دیا جائے گا؟

پمز اسپتال میں جو کچھ ہوا، اسے صرف ایک آگ کا حادثہ کہہ دینا شاید ان ماؤں اور باپوں کے زخموں کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔

یہ 14 نومولود بچوں کی موت کا سانحہ تھا۔

وہ بچے جنہوں نے ابھی زندگی کو دیکھا بھی نہیں تھا۔ جنہوں نے شاید اپنی ماں کی انگلی بھی ٹھیک سے نہیں پکڑی تھی۔ جن کے باپوں نے ان کے نام سوچنے شروع کیے ہوں گے۔ جن کے گھر میں چند گھنٹے پہلے خوشی آئی ہوگی۔

اور پھر…

وہ خوشی دھوئیں میں بدل گئی۔

پمز کے مادر و طفل وارڈ میں آگ لگی، نومولود بچے اندر تھے، اور چند لمحوں میں پاکستان کے سب سے اہم سرکاری اسپتالوں میں سے ایک، ان بچوں کے لیے زندگی بچانے کی جگہ سے موت کا منظر بن گیا۔

اب حکومت تحقیقات کر رہی ہے۔

کمیٹیاں بن گئی ہیں۔

بیانات آ رہے ہیں۔

افسوس کا اظہار ہو رہا ہے۔

لیکن ملک بھر میں ایک سوال شدت سے گونج رہا ہے:

کیا اس بار واقعی کوئی ذمہ دار پکڑا جائے گا؟ یا پھر ایک افسر کو ہٹا کر، ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر، چند دن بعد یہ سانحہ بھی ہماری اجتماعی یادداشت سے مٹا دیا جائے گا؟


مصطفیٰ کمال کا تازہ مؤقف: “احتساب مجھ سے شروع ہونا چاہیے”

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اس وقت شدید دباؤ اور تنقید میں ہیں۔

انہوں نے پمز سانحے کے بعد اپنے مؤقف میں کہا کہ اگر کسی کی کوتاہی یا غفلت ثابت ہوئی تو اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کے تازہ سوشل میڈیا مؤقف کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ:

“جس کسی کی غلطی یا کوتاہی ہوگی، اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔”

مصطفیٰ کمال نے یہ بھی کہا کہ وہ خود کو بھی احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں اور اگر تحقیقات میں کسی کی ذمہ داری سامنے آئی تو اسے تحفظ نہیں دیا جائے گا۔

یہ ایک بڑا سیاسی بیان ہے۔

لیکن اس بیان کے بعد عوام اور سیاست دانوں نے ایک اور سوال اٹھا دیا:

اگر احتساب واقعی وزیر سے شروع ہونا چاہیے، تو کیا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے؟

کیونکہ ایک طرف مصطفیٰ کمال کہہ رہے ہیں کہ احتساب مجھ سے شروع ہونا چاہیے، دوسری طرف وہ پمز کے پرانے انفراسٹرکچر، مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور 1984 کی عمارت کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پمز پر مریضوں کا دباؤ بہت بڑھ چکا ہے اور اسپتال کا پرانا ڈھانچہ موجودہ ضروریات کے لیے ناکافی ہو چکا ہے۔

لیکن یہاں سب سے تلخ سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر عمارت پرانی تھی، تو اسے محفوظ بنانے کی ذمہ داری کس کی تھی؟

اگر فائر سیفٹی کا نظام ناکافی تھا، تو اس کی نشاندہی پہلے کیوں نہیں ہوئی؟

اگر اسپتال پر مریضوں کا غیرمعمولی دباؤ تھا، تو حکومت نے پہلے سے انتظام کیوں نہیں کیا؟

اور اگر خطرہ پہلے سے موجود تھا…

تو پھر 14 بچے مرنے کے بعد ہی سب کو یہ خطرہ کیوں نظر آیا؟


مصطفیٰ کمال کے خلاف غصہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

اصل تنازع صرف ان کے احتساب والے بیان کا نہیں۔

عوامی غصہ اس وقت بڑھا جب متاثرہ خاندانوں اور حکومتی مؤقف کے درمیان مختلف دعوے سامنے آئے۔

کچھ والدین اور عینی شاہدین نے سوال اٹھایا کہ وارڈ تک رسائی، دروازوں، عملے کی موجودگی اور ریسکیو کے حوالے سے صورتحال کیا تھی۔

دوسری جانب سرکاری مؤقف میں کہا گیا کہ عملے نے فوری ردعمل دیا اور دروازے یا کنٹرولڈ رسائی نے انخلا میں رکاوٹ پیدا نہیں کی۔

یہاں مسئلہ یہی ہے:

دو کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔

ایک طرف غم زدہ والدین ہیں جو سوال کر رہے ہیں:

“ہمارے بچے کیوں نہیں بچ سکے؟”

دوسری طرف حکام ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ صورتحال کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

اور درمیان میں…

14 بچوں کی خاموش قبریں ہیں۔

یہی خاموشی سب سے خوفناک ہے۔

کیونکہ یہ بچے خود کسی پریس کانفرنس میں نہیں آ سکتے۔

یہ ٹوئٹ نہیں کر سکتے۔

یہ اسمبلی میں تقریر نہیں کر سکتے۔

ان کے لیے اب صرف ان کے والدین اور عوام سوال کر سکتے ہیں۔


شہباز شریف کیا کہہ رہے ہیں؟

وزیراعظم شہباز شریف نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور فوری تحقیقات کا حکم دیا۔

ان کا مؤقف بنیادی طور پر یہ تھا کہ بچوں سے متعلق ایسا سانحہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے، اس کے اسباب کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

وزیراعظم کی ہدایت کے بعد:

  • تحقیقات شروع کی گئیں۔
  • اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔
  • وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
  • فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے۔

لیکن پھر ایک اور سوال سامنے آیا:

کیا ایک سیکریٹری کو ہٹا دینا 14 بچوں کی موت کا مکمل جواب ہے؟

یہ سوال صرف حکومت مخالف لوگ نہیں اٹھا رہے۔

صحافی بھی پوچھ رہے ہیں۔

اپوزیشن بھی پوچھ رہی ہے۔

اور حکومت کے اتحادیوں میں شامل سیاسی شخصیات بھی سوال کر رہی ہیں۔

شہباز شریف کا فوری نوٹس اور تحقیقات کا حکم یقیناً ضروری اقدام ہے۔

لیکن نوٹس لینا اور نظام بدلنا دو مختلف چیزیں ہیں۔

پاکستان میں شاید سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ یہی ہیں:

نوٹس لے لیا گیا۔

تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔

ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

لیکن عوام پوچھتے ہیں:

کتنی تحقیقات اپنے انجام تک پہنچیں؟

کتنی رپورٹس عوام کے سامنے آئیں؟

اور کتنے سانحات کے بعد واقعی نظام تبدیل ہوا؟


بلاول بھٹو کا جذباتی ردعمل: “مائیں نو ماہ…”

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس سانحے پر انتہائی جذباتی ردعمل دیا۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس درد کو ایک ماں کی تکلیف سے جوڑا اور بنیادی طور پر یہ سوال اٹھایا کہ:

مائیں نو ماہ بچوں کو پالتی ہیں… غفلت سے انہیں جلنے کے لیے نہیں۔

یہ الفاظ سیاسی بیان سے زیادہ ایک انسانی چیخ محسوس ہوتے ہیں۔

کیونکہ حقیقت یہی ہے۔

ایک ماں نو ماہ صرف ایک بچہ پیدا نہیں کرتی۔

وہ نو ماہ:

خواب پالتی ہے۔

نام سوچتی ہے۔

کپڑے خریدتی ہے۔

دعائیں مانگتی ہے۔

پھر وہ بچے کو دنیا میں لاتی ہے…

اور اسے اسپتال میں اس لیے لے جایا جاتا ہے کہ اس کی زندگی محفوظ ہو۔

لیکن اگر وہی اسپتال…

بچے کے لیے موت کی جگہ بن جائے؟

تو پھر ذمہ داری کس کی ہے؟


شری رحمٰن اور دیگر سیاست دان: “یہ صرف حادثہ نہیں”

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شری رحمٰن نے اس سانحے پر انتہائی سخت ردعمل دیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی دارالحکومت کے سب سے اہم اسپتال میں شہری علاج کے لیے جاتے ہیں یا اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے؟

ان کا مطالبہ صرف افسوس نہیں بلکہ جوابدہی ہے۔

انہوں نے وزیرِ صحت کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور بعض اپوزیشن شخصیات نے بھی سوال اٹھایا کہ صرف وفاقی سیکریٹری کو ہٹا دینا کافی نہیں۔

شازیہ صومرو سمیت بعض سیاسی شخصیات نے اسے اخلاقی ذمہ داری کا معاملہ قرار دیتے ہوئے وزیرِ صحت کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

یہاں سیاست ضرور ہے۔

لیکن سوال یہ بھی ہے:

کیا ہر تنقید کو سیاست کہہ کر مسترد کر دینا آسان نہیں؟

اگر اپوزیشن سوال کرے تو کہا جاتا ہے سیاست کر رہی ہے۔

اگر صحافی سوال کرے تو کہا جاتا ہے سنسنی پھیلا رہا ہے۔

اگر متاثرہ والد سوال کرے تو کہا جاتا ہے وہ غم میں جذباتی ہے۔

پھر آخر سوال کون کرے؟

اور کس وقت کرے؟

کیا صرف سانحے کے بعد خاموش رہنا ہی “غیر سیاسی” رویہ ہے؟


مفتاح اسماعیل، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر کا ردعمل

مفتاح اسماعیل نے اس سانحے کو صرف افسوسناک واقعہ نہیں بلکہ ممکنہ سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے مکمل تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی کہا کہ صرف وزیراعظم کا نوٹس لینا کافی نہیں۔

ان کا بنیادی سوال یہ تھا:

اگر بہتر انتظام اور نگرانی سے یہ سانحہ روکا جا سکتا تھا، تو پھر اسے حادثہ کہہ کر آگے کیوں بڑھا جائے؟

دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی کہا کہ اسے محض ایک “حادثہ” کہہ کر بند نہیں کیا جانا چاہیے۔

اور شاید یہی اس پورے سانحے کا سب سے اہم نکتہ ہے۔

حادثہ کیا ہوتا ہے؟

ایک ایسی چیز جو روکی نہ جا سکتی ہو؟

یا پھر ایسی چیز جسے ہم نے بروقت روکنے کی کوشش ہی نہ کی ہو؟

یہ فرق تحقیقات کو طے کرنا ہے۔


کیا سیاست دان واقعی سنجیدہ ہیں یا ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں؟

یہ سب سے مشکل سوال ہے۔

اور شاید سب سے ایماندار جواب یہ ہے:

دونوں چیزیں موجود ہیں۔

کچھ ردعمل واقعی انسانی دکھ سے بھرے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

کچھ سیاست دان اور صحافی واقعی نظام کی ناکامی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

لیکن سیاست کا ایک تلخ پہلو بھی موجود ہے۔

حکومت کے مخالفین وزیرِ صحت سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔

حکومت تحقیقات اور کمیٹیوں کا حوالہ دے رہی ہے۔

وزیرِ صحت پرانے انفراسٹرکچر اور بڑھتے ہوئے دباؤ کی بات کر رہے ہیں۔

سیکریٹری کو ہٹا دیا گیا۔

اور یوں خطرہ یہ ہے کہ:

اصل ذمہ داری ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتی رہے اور نظام خود بچ نکلے۔

یہی وہ کھیل ہے جس سے عوام سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔

ایک افسر ہٹا دو۔

ایک کمیٹی بنا دو۔

چند دن تک اجلاس کر لو۔

پھر کوئی نئی خبر آ جائے گی۔

اور…

پمز کے 14 بچے ایک پرانی خبر بن جائیں گے۔


تحقیقات کے دوران ایک اور خطرناک چیز سامنے آئی: متضاد بیانات

قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے دورے کے بعد بھی کئی سوالات سامنے آئے۔

کمیٹی نے فائر ڈرلز، فائر آڈٹ، الارمز، وائرنگ، عملے کی موجودگی اور تکنیکی خرابیوں سے متعلق سوالات اٹھائے۔

بعض اراکین نے عملے کے بیانات میں تضاد کا ذکر کیا۔

یہ بات انتہائی تشویشناک ہے۔

کیونکہ جب ایک سانحے کے بعد:

  • عملے کے بیانات مختلف ہوں،
  • عینی شاہدین اور حکام کی کہانیاں مختلف ہوں،
  • آگ لگنے کی وجہ پر سوال موجود ہوں،
  • فائر سیفٹی کے انتظامات زیرِ بحث ہوں،

تو عوام کے ذہن میں ایک خوف پیدا ہوتا ہے:

کہیں سچ کو بعد میں کسی ایک آسان کہانی میں تبدیل تو نہیں کر دیا جائے گا؟

اسی لیے اس بار تحقیقات صرف حکومتی رپورٹ نہیں ہونی چاہئیں۔

یہ رپورٹ عوامی اعتماد کی آزمائش ہے۔


سب سے بڑا سوال: کیا 14 بچوں کی موت کے بعد بھی ہم صرف اگلے سانحے کا انتظار کریں گے؟

پمز کا سانحہ ہمیں ایک بار پھر وہی خوفناک حقیقت دکھا رہا ہے۔

پاکستان میں ہم اکثر سانحے کے بعد متحرک ہوتے ہیں۔

پہلے لوگ مرتے ہیں۔

پھر تحقیقات ہوتی ہیں۔

پہلے عمارت جلتی ہے۔

پھر فائر سیفٹی یاد آتی ہے۔

پہلے مائیں چیختی ہیں۔

پھر وزراء پہنچتے ہیں۔

پہلے جنازے اٹھتے ہیں۔

پھر کمیٹیاں بنتی ہیں۔

اور پھر…

کچھ عرصے بعد سب معمول پر آ جاتا ہے۔

ہم ایک سانحے کے بعد اگلے سانحے کا انتظار کیوں کرتے ہیں؟

شاید اس لیے کہ ہمارے نظام میں احتیاط سے زیادہ افسوس سستا ہے۔

حفاظتی نظام بنانا مشکل ہے۔

مگر تعزیتی بیان جاری کرنا آسان ہے۔

اسپتالوں کا آڈٹ کرنا مشکل ہے۔

مگر سانحے کے بعد کمیٹی بنانا آسان ہے۔

ذمہ داری قبول کرنا مشکل ہے۔

مگر کسی ماتحت افسر کو قربانی کا بکرا بنانا آسان ہے۔


پمز کے 14 بچے پاکستان سے صرف انصاف مانگ رہے ہیں

مصطفیٰ کمال نے کہا:

احتساب مجھ سے شروع ہونا چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا:

تحقیقات ہوں گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

اپوزیشن کہہ رہی ہے:

استعفیٰ دو اور جواب دہی کرو۔

صحافی کہہ رہے ہیں:

یہ صرف حادثہ نہیں، نظام کی ناکامی ہے۔

لیکن ان تمام بیانات کے درمیان ایک چیز سب سے زیادہ اہم ہے:

نتیجہ۔

اگر تحقیقات کے بعد حقیقت سامنے آتی ہے…

اگر ذمہ داروں کا تعین ہوتا ہے…

اگر واقعی سزا ہوتی ہے…

اگر پمز سمیت پورے ملک کے اسپتالوں کی فائر سیفٹی کا فوری آڈٹ ہوتا ہے…

اگر دوبارہ کسی ماں کو اپنے نومولود کا جنازہ نہیں اٹھانا پڑتا…

تب ہم کہیں گے کہ شاید اس سانحے سے کچھ سیکھا گیا۔

لیکن اگر ایک بار پھر:

افسوس… تحقیقات… معطلی… کمیٹی… اور خاموشی…

تو پھر ہمیں اپنے آپ سے ایک سوال پوچھنا ہوگا:

کیا ہم واقعی سانحات پر غم کرتے ہیں؟

یا ہم صرف چند دن غم کا ڈرامہ کر کے…

اگلے سانحے کا انتظار کرتے ہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *