1
1
کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے جا رہے ہیں؟ کیا اس کے لیے پورے ملک میں ریفرنڈم ہوگا؟ اور آخر یہ بحث اچانک شروع کس نے کی؟
آج کل پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا سوال دوبارہ زندہ ہو گیا ہے جو کئی دہائیوں سے وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے: کیا چار صوبوں والا موجودہ پاکستان اب 25 کروڑ سے زائد آبادی کے ملک کو مؤثر طریقے سے چلا سکتا ہے؟
یہ صرف ایک سیاسی بحث نہیں رہی۔ اب اس میں حکمرانی، ترقی، آبادی، وسائل، شناخت، کراچی، جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دیگر علاقوں کی نمائندگی جیسے بڑے سوال شامل ہو چکے ہیں۔
لیکن اس بحث میں سب سے زیادہ الجھن ایک لفظ نے پیدا کی ہے: ریفرنڈم۔
کیا واقعی حکومت پورے پاکستان میں نئے صوبوں کے لیے ریفرنڈم کروانے جا رہی ہے؟
اس کا مختصر جواب ہے: ابھی نہیں۔
حالیہ بحث کو سب سے زیادہ نمایاں طور پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان نے دوبارہ زندہ کیا۔
30 جولائی 2026 کو پاکستان اکنامک سمٹ میں انہوں نے ملک کے موجودہ انتظامی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بہتر بنانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے مسئلے پر سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی سے بیٹھنا ہوگا۔ ان کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ اتنے بڑے اور بڑھتی ہوئی آبادی والے ملک کو موجودہ انتظامی نظام کے ساتھ مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ خیال بھی پیش کیا کہ صوبوں یا انتظامی یونٹس کے معاملے کو آخرکار عوام کے سامنے لے جانا ہوگا۔ یہی وہ بات تھی جس کے بعد ریفرنڈم کی بحث نے زور پکڑا۔
لیکن یہاں ایک بہت اہم فرق سمجھنا ضروری ہے:
عوام سے رائے لینے کی بات اور سرکاری طور پر ریفرنڈم کا اعلان، دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔
ابھی تک کوئی سرکاری قومی ریفرنڈم شیڈول نہیں ہوا۔
محسن نقوی کے بیان کے اگلے دن DG ISPR لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے بھی اس معاملے پر سوال کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں سے متعلق محسن نقوی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے اور اس معاملے کا فیصلہ سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔
تاہم DG ISPR نے ایک اہم نکتہ ضرور اٹھایا: اچھی حکمرانی پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کی بحث صرف نقشہ بدلنے کی بحث نہیں رہی بلکہ اب اسے ایک بڑے سوال سے جوڑا جا رہا ہے:
کیا پاکستان کا موجودہ انتظامی نظام عوام کو واقعی اچھی حکمرانی دے رہا ہے؟
یہاں سے اصل سیاسی اختلاف شروع ہوتا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نئے صوبوں کی بحث اس وقت قبل از وقت ہے۔
ان کے مطابق اگر کبھی اس معاملے پر سنجیدہ پیش رفت ہوتی ہے تو اسے مناسب آئینی اور سیاسی فورم پر لانا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ریفرنڈم یا بڑے فیصلے سے پہلے معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے آنا چاہیے۔
یعنی PML-N کے اندر بھی فوری طور پر پاکستان کو تقسیم کرکے نئے صوبے بنانے کا کوئی واضح سرکاری منصوبہ سامنے نہیں آیا۔
دوسری طرف PML-N کے ہی سینئر رہنما اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نسبتاً مختلف اور زیادہ کھلا مؤقف دیا۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے پر قومی سطح کی بحث ہونی چاہیے اور ملک میں 12 سے 15 نئے صوبے بنانے کے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ موجودہ چار صوبے بہت زیادہ مرکزی نوعیت اختیار کر چکے ہیں اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ایک نئے انتظامی ماڈل پر سوچنا ضروری ہے۔
لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تجویز ہے، حکومتی فیصلہ نہیں۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف شاید سب سے زیادہ دلچسپ اور پیچیدہ ہے۔
PPP کے رہنما نئیر بخاری نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کا فیصلہ صرف سیاسی بیانات سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے آئینی طریقہ کار، پارلیمنٹ اور سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔
انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر وزرا واقعی نئے صوبوں کے معاملے میں سنجیدہ ہیں تو اسے وفاقی کابینہ اور پھر پارلیمنٹ میں کیوں نہیں لایا جا رہا؟
PPP نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر نئے صوبے بن گئے تو:
NFC ایوارڈ کیسے تقسیم ہوگا؟
وسائل کس فارمولے سے بانٹے جائیں گے؟
سینیٹ میں نمائندگی کیا ہوگی؟
قومی اسمبلی کی نشستوں کا کیا نظام ہوگا؟
i یہ سوال بہت اہم ہیں، کیونکہ نیا صوبہ صرف ایک نئی سرحد نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ اربوں روپے کے وسائل، سیاسی طاقت اور نمائندگی کا پورا نظام تبدیل ہو سکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھی کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے میں زبردستی کوئی فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا اور PPP عوامی اتفاق رائے کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
یہ بیان ایک اہم سیاسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے:
پاکستان میں نئے صوبے صرف طاقت کے ذریعے نہیں بن سکتے۔
جس علاقے، صوبے اور عوام کو متاثر ہونا ہے، ان کے سیاسی اور عوامی اتفاق رائے کے بغیر یہ معاملہ انتہائی حساس ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کی قومی بحث جیسے ہی تیز ہوئی، سندھ میں معاملہ فوراً جذباتی اور سیاسی رنگ اختیار کر گیا۔
سندھ اسمبلی میں کئی روز تک نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر بحث ہوئی۔ PPP کے ارکان نے سندھ کی تقسیم کی سخت مخالفت کی، جبکہ MQM-P، PTI اور جماعت اسلامی کے ارکان نے مختلف انداز میں نئے انتظامی یونٹس اور بہتر حکمرانی کی ضرورت پر زور دیا۔
MQM-P کا بنیادی مؤقف یہ رہا کہ انتظامی یونٹس بنانا ضروری نہیں کہ سندھ کو تقسیم کرنا ہو۔
لیکن سندھ حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ سندھ ایک ہے اور اس کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
4 ستمبر 2026 کو سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے سندھ کی تقسیم، حدود میں تبدیلی اور نئے صوبے بنانے کی تجاویز کو مسترد کر دیا۔ اپوزیشن کے بعض ارکان نے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی تقسیم کے معاملے پر احتجاج اور واک آؤٹ بھی کیا۔
یہاں اصل اختلاف ایک دلچسپ سوال ہے:
کیا سندھ کو تقسیم کیے بغیر اختیارات کو چھوٹے اور مؤثر انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؟
شاید آنے والے دنوں میں یہی سوال سندھ کی سیاست کا سب سے بڑا موضوع بنے۔
یہاں حقیقت کو بالکل صاف رکھنا ضروری ہے۔
اس وقت قومی اسمبلی نے نئے صوبوں کے لیے کوئی نیا قانون منظور نہیں کیا۔
قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق موجودہ سیشن 28 اگست 2026 کو prorogue ہو چکا ہے۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ میں اس وقت نئے صوبوں کے قیام کے لیے کوئی منظور شدہ نیا قانون یا نافذ شدہ آئینی ترمیم نظر نہیں آتی۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاملہ سنجیدگی سے آگے بڑھتا ہے تو اسے بالآخر قومی اسمبلی کے مناسب آئینی راستے سے پیش کرنا ہوگا۔
یعنی اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ بنیادی طور پر:
سیاسی بیانات + قومی بحث + مختلف تجاویز + صوبائی سطح پر ردعمل
ہے۔
ابھی تک پاکستان کا نقشہ تبدیل کرنے والا کوئی حتمی پارلیمانی فیصلہ نہیں ہوا۔
یہ سب سے اہم سوال ہے۔
پاکستان میں صوبوں کی حدود تبدیل کرنا ایک انتہائی بڑا آئینی معاملہ ہے۔
صرف عوامی ریفرنڈم کروا کر اگلے دن نیا صوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔
متعلقہ آئینی طریقہ کار، پارلیمنٹ، آئینی ترمیم اور متاثرہ صوبے کی رضامندی جیسے معاملات اہم ہوں گے۔
خاص طور پر کسی موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی ایک حساس آئینی عمل ہے، جس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سمیت آئینی شرائط پوری کرنا ضروری ہوتی ہیں۔
اسی لیے سیاسی طور پر ریفرنڈم ایک عوامی رائے معلوم کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن وہ خود بخود آئینی طریقہ کار کی جگہ نہیں لے سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ نئیر بخاری اور رانا ثناء اللہ سمیت مختلف سیاسی شخصیات بار بار پارلیمنٹ اور آئینی طریقہ کار کی بات کر رہے ہیں۔
میرے خیال میں اس سوال کا جواب صرف ہاں یا نہیں میں دینا غلط ہوگا۔
نئے صوبے پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، لیکن صرف اس صورت میں جب انہیں حکمرانی بہتر بنانے کے لیے بنایا جائے، نہ کہ صرف سیاسی طاقت حاصل کرنے کے لیے۔
مثال کے طور پر جنوبی پنجاب کے لوگوں کی شکایت کئی دہائیوں سے رہی ہے کہ فیصلے لاہور میں ہوتے ہیں اور ان کے علاقے ترقیاتی لحاظ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اسی طرح ہزارہ، کراچی اور دوسرے علاقوں میں بھی نمائندگی اور انتظامی مسائل پر مختلف آوازیں موجود ہیں۔
چھوٹے صوبوں کے ممکنہ فائدے یہ ہو سکتے ہیں:
لیکن خطرات بھی موجود ہیں۔
اگر نئے صوبے لسانی، نسلی اور سیاسی تقسیم کی بنیاد پر بنائے گئے تو ملک میں نئے تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔
پھر سوال پیدا ہوگا:
پانی کس کا ہوگا؟ وسائل کس کے ہوں گے؟ دارالحکومت کہاں ہوگا؟ NFC میں حصہ کتنا ہوگا؟
اس لیے پاکستان کو نئے صوبے بنانے سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مقصد کیا ہے۔
کیا ہم نقشہ بدلنا چاہتے ہیں؟ یا نظام بدلنا چاہتے ہیں؟
کیونکہ اگر موجودہ طرز حکمرانی، کرپشن، کمزور مقامی حکومتیں اور غیر مؤثر ادارے ویسے ہی رہے تو 4 صوبوں کی جگہ 15 صوبے بھی عوام کے مسائل حل نہیں کر سکیں گے۔
اس وقت کا سب سے ایماندار جواب ہے:
بحث پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدہ ضرور ہو گئی ہے۔
محسن نقوی نے مسئلہ اٹھایا۔
DG ISPR نے اچھی حکمرانی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ فیصلہ سیاسی اور عوامی عمل پر چھوڑا۔
احسن اقبال نے 12 سے 15 صوبوں کی قومی بحث کی تجویز دی۔
PPP نے آئینی اتفاق رائے کی شرط رکھی۔
PML-N کے دوسرے رہنماؤں نے اسے ابھی قبل از وقت قرار دیا۔
اور سندھ اسمبلی نے اپنی جغرافیائی تقسیم کے خلاف واضح قرارداد منظور کر دی۔
اس لیے پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں نئے صوبے بننے کا فیصلہ نہیں ہوا، لیکن نئے صوبوں پر خاموشی ضرور ختم ہو گئی ہے۔
شاید آنے والے سالوں میں پاکستان کے سیاسی نظام کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی کے ملک کو صرف چار بڑے صوبوں کے ذریعے چلانا بہتر ہے یا ایک نیا انتظامی ماڈل اختیار کرنا چاہیے۔
لیکن ایک بات واضح ہے:
پاکستان کو صرف نئے صوبوں کی نہیں، نئی طرز حکمرانی کی بھی ضرورت ہے۔
اگر نئے صوبے بنیں اور حکومت عوام کے قریب آئے، اختیارات نچلی سطح تک پہنچیں اور ترقی واقعی دور دراز علاقوں تک جائے تو یہ پاکستان کے لیے ایک مثبت تبدیلی ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر صرف سیاستدانوں کے عہدے بڑھیں، نئی اسمبلیاں بنیں اور عوام کے مسائل وہیں کے وہیں رہیں، تو پھر پاکستان کا نقشہ بدل جائے گا مگر عام پاکستانی کی زندگی نہیں بدلے گی۔
اور شاید اس پوری بحث کا سب سے بڑا سوال یہی ہے: